Knowledge
علم
آج کا ایک بہت ہی اہم سوال یہ ہے۔ کہ علم کیا ہے؟
کیسے حاصل کی جاتی ہے؟
کہاں سے حاصل کی جاتی ہے؟
علم کا لفظی معنی ہے
جاننا۔
علم حاصل کرنے کا معنی ہے۔
اپنے آپ کو پہچاننا۔
ظاہر سی بات ہے۔ جب تک انسان اپنے آپ کونہیں پہنچانتا۔ اُس وقت تک دوسروں کو پہچان نہیں سکتا۔ جب ایک آدمی اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کرے گا تو اپنے آپ سے سوال کرے گا۔ کہ میں انسان ہوں یا حیوان۔ اگر میں انسان ہوں تو مجھ میں اور ایک حیوان میں کیا فرق ہے؟ اس دُنیا میں میرے آنے کا کیا مقصد ہے؟ مجھے اس دُنیا میں کس طرح کا رول ادا کرنا چاہیے؟ جب ہم اس طرح کے سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے۔ اور اُن کو ڈھونڈ نکالیں گے۔ یقینا تب ہم اپنے آپ کو پہچانیں گے۔ جس وقت ہم نے اپنے آپ کو پہچان لیا۔ اس کا مقصدیہ ہوا کہ ہم نے علم حاصل کیا۔ جس وقت ہم اچھے اور بُرے میں تمیز کرلی۔ اُس وقت سمجھ لیجئے کہ آپ نے علم حاصل کرلی۔ ایک ماچس کی تیلی کا مثال لیجئے۔ اگرآپ کے پاس ماچس کا ایک تیلی ہے۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ کے ہاتھ میں کیا ہے؟ آپ جواب دیتے ہیں کہ ماچس کا ایک تیلی۔ پھر میں آپ سے دوسرا سوال کرتا ہوں۔ کہ اس ماچس کے تیلی سے آپ کیا حاصل کرسکتے ہیں؟ آپ کا جواب ہوگا ”آگ“ جس وقت آپ نے جواب دیا کہ آگ اُس وقت میں سمجھتا ہوں کہ آپ کے پاس ماچس کے تیلی کے بارے میں علم ہے۔ یعنی آپ اس کے بارے میں جانتے ہیں کہ اس سے آگ پیدا ہوتی ہے۔ اگر آپ کو پتا نہیں کہ ماچس کے ایک تیلی سے کیا پیدا ہوتا ہے۔ تو آپ کو لا علم قرار دیا جاتا ہے۔ یعنی آپ کے پاس ماچس کی تیلی کے بارے میں جاننے کا علم نہیں۔
اگر میں یہ پوچھ لوں کہ ماچس کی تیلی کا بننے کا طریقہ کار بتائیں۔ تو شاید آپ یہی جواب دیں کہ میں نہیں جانتا۔ اس کا مقصد یہ ہوا کہ آپ کو ماچس کے بننے کے بارے میں علم نہیں ہے۔ اور آپ اس سے لا علم ہے۔
اب یہاں پر ایک اور سوال پیدا ہوتاہے۔ کہ اس ایک تیلی سے کیا فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یا اس تیلی سے کیا نقصانات پہنچایاجاسکتا ہے یہ آپ کے رحجان / خیالات / سوچ پر منحصر ہے۔ کیونکہ انسان کے ذہن میں دوقسم کے رحجانات پیدا ہوتے ہیں۔
پہلا مثبت رحجان اور دوسرا منفی رحجان
برائن ٹریسی کے مطابق
”انسان کے دماغ میں ایک سیکنڈ میں 10 منفی رحجان پیدا ہوتے ہیں۔ جبکہ ایک گھنٹے میں صرف10 کے قریب مثبت رحجان پیدا ہوسکتے ہیں“
یقینا اگر آپ کسی اچھے ماحول میں رہ رہے ہوں اورآپ نے اچھی تعلیم حاصل کی ہے۔ آپ اچھے کردار کے مالک ہیں۔ آپ اچھائی کے طلبگا ر ہیں۔ اچھا زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔ لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں۔ نئے چیزیں تخلیق کرنا چاہتے ہیں۔ لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔
اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ مثبت انداز میں سوچ رہے ہیں۔ اور آپ اس ماچس کے تیلی سے پیدا ہونے والے آگ سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔
مثال کے طور پر ایک طالب علم ہر وقت پر سکول جاتا ہے۔ سکول میں دل لگا کر پڑھتا ہے۔ اپنے کتابوں کوسھنبالتا ہے۔ کاپیوں کو لکھنے کیلئے استعمال کرتاہے۔ اپنا وقت ضائع نہیں کرتا۔ اُس کے سامنے ایک مقصد ہوتاہے۔ اُس مقصد کی خاطر جدوجہد کرتاہے۔ رات کو اپنے گھر میں اس ماچس کی تیلی کی آگ سے لالٹین کو روشن کرکے اپنے سکول کا کام دل لگا کر کرتاہے۔ یقینا وہ اپنی ذہنی سوچ فکر کو مثبت انداز میں استعمال کر رہا ہوتاہے۔ کل وہ اس ماچس کی آگ کی روشنی سے دُنیا روشن کرسکتا ہے۔
اگر ایک طالب علم وقت پر سکول نہیں جاتا۔ سکول سے بھاگتا رہتا ہے۔ کتابیں اور کاپیاں اُسکے لیے ایک بوجھ سی بنی ہوتی ہیں۔ اور منفی سوچ اُس پر ہر وقت حاوی ہوتا ہے۔ اُس کے سامنے کوئی خاص مقصد نہیں ہوتا۔ لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنا نہیں چاہتا۔ کسی بھی چیز کو خراب کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کرتا رہتاہے۔ تو وہ سب سے پہلا کام یہی کرتاہے۔ کتابوں کے بوجھ سے اپنے کو چھڑانا چاہتا ہے۔ تاکہ اس مصیبت سے اُس کی جان چھوٹ جائے۔ وہ کتابوں کو پھاڑ کر انھیں ایک ماچس کی تیلی سے آگ لگاتا ہے۔ کتابیں جل کر راکھ ہوجاتے ہیں۔ کتابوں کے جلنے کے ساتھ ساتھ اُس کا زندگی بھی جل کر راکھ ہو جاتاہے۔ اوروہ کبھی اچھے کردار کا مالک نہیں بن سکتا
یقینا علم کو صحیح طریقے سے استعمال کرنے کیلئے شعور کی ضرورت ہوتی ہے۔ اچھے معاشرے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اچھے لوگوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنا پڑتاہے۔ مثبت سوچ وفکر کی ضرورت ہوتی ہے۔
جس طرح آپ ؐفرماتے ہیں۔ کہ
”علم حاصل کرو چاہے تمھیں چین جانا پڑے“
اس کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں نیا سے نیا علم سیکھنا چاہیے۔نئی ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرنا چائیے۔ نئی چیزیں تخلیق کرنا چاہیے۔ تاکہ ہمارے ذہن میں نئے خیالات جنم لے۔ ایک نئی سوچ وفکر پیدا ہو۔ نئی چیزیں تخلیق کرنے کی کوشش کریں۔ اچھے انسان بنیں۔ ڈاکٹر نپولین ہل کا کہناہے۔ کہ
”کہ تعلیم یافتہ شخص وہ نہیں جس کے پاس صرف علم ہو۔ بلکہ وہ ہے۔ جو یہ جانتا ہو۔ کہ علم کو کدھر اور کیسے خرچ کیا جائے۔“
یقینی بات ہے۔ اگر آپ نے کہیں سے علم حاصل کیا۔ اور آپ اس علم کو چھپا رہے ہیں۔ اس سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچتا۔ تووہ علم بیکار ہو جاتاہے۔ وہ آپ کو اندر سے کھاتا رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے سے لوگوں سے دوری پیدا ہوجاتاہے۔ تعلقات ختم ہوتے ہیں،
اگر آپ نے کہیں سے علم حاصل کیا اوراس علم کو پھیلایا۔ لوگوں کو ایک نیا راستہ دکھایا۔ لوگوں کو روشنی کی طرف بھلایا۔ لوگوں کو تبدیلی کی جانب راغب کیا۔ یقینا اسی ایک چھوٹی سی روشنی کی وجہ سے بہت سے جگہوں میں روشنی پھیلے گا۔ لوگ آپ کی عزت کریں۔ آپ کے بارے میں میں لوگ اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ ہر جگہ آپ کی چرچا ہوگی۔
میں طلباء سے اکثر یہی بات کہتاہوں۔ کہ آج کے دُنیا میں ان لوگوں کی زیادہ ضرورت ہے۔ جو اپنے دماغ کو صحیح طور پر استعمال کرتے ہیں۔ جو اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کرتے۔ اچھے کتاب پڑھتے ہیں۔ دل لگا کر محنت کرتے ہیں۔ اچھے اخلاق سے پیش آتے ہیں۔ اچھے کردار کے مالک ہوتے ہیں۔ اپنے استادوں کا احترام کرتے ہیں۔ زندگی کو مقدس سمجھتے ہیں۔ اپنے سامنے ایک مقصد رکھ کر اُس کے خاطر جد وجہد کرتے ہیں۔ علم حاصل کرنے کیلئے ہر جگہ پیش پیش ہوتے ہیں یقینا دُنیا میں بھی کامیاب و کامران ہو جاتے ہیں۔
(مصنف: شیکوف بلوچ)
knowledge
Knowledge is the acquaintance, awareness, or understanding of someone or something, such as facts, information, skills that are acquired through experience or training through perception, discovery, or training.
Written by Shaikof
No comments:
Post a Comment